Follow Me on Pinterest
Latest Pins:

Kitab-al-Isfar-banner-website

 

When my Beloved appears,

With what eye do I see Him?

With His eye, not with mine,

For none sees Him except Himself.

— Ibn al-'Arabī, by: Reynold A Nicholson

Read More

Feb 01 2012

isfar web new

Author: Muhyiddin Ibn al-Arabi

Editor: Denis Gril & Abrar Ahmed Shahi

Translator: Abrar Ahmed Shahi

Price Rs 600/- Int'l US $ 25.

Preorder

Read online Now

Critical Arabic edition made by Yusuf Aga 4859; an autograph manuscript of this work, also supported by 8 other finest copies. This edition is as authentic and pure as intended by the author. We are pround to present in collaboration with Anqa publishing of Oxford and Mr Denis Gril of France, the Most Authentic Critical Edition of Kitāb al-Isfār. 

This edition includes full Arabic text, complete Urdu translation, Arabic and Urdu notes, Takhrīj of Quranic Ayas and Ahadith and a preface on the concept of spiritual voyaging.

 روحانی اسفار اور ان کے ثمرات

سفر کی خصوصیت ہی یہ ہوتی ہے کہ وہ کسی نتیجے یا مقصد کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ اور یہ نتیجہ ہی اس سفر کا حاصل یا ثمر کہلاتا ہے۔ جس قسم کا سفر کیا جاتا ہے ویسا ہی اس کا نتیجہ ہوتا ہے چنانچہ ہر سفر لازماً اپنے اندر موجود ثمرات کو آشکار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور انہی ثمرات کے حصول کے لیے وہ سفر کیا جاتا ہے۔ عربی لفظ سفر سے مشتق ایک لفظ اِسفار بھی ہے جس کا مطلب کسی چیز کو واضح کرنا یا روشن کرنا ہوتا ہے۔ اسی مفہوم کو پیش نظر رکھنے ہوئے شیخ اکبر محی الدین ابن عربی فتوحات مکیہ میں فرماتے ہیں کہ “سفر کو سفر اسی لیے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ مَردوں کے اخلاق عیاں کرتا ہے، مطلب یہ کہ یہ ہر انسان کے اُن اچھے اور بُرے اخلاق کو ظاہر کرتا ہے جن کا وہ شخص حامل ہوتا ہے۔” 

کتاب الاسفار ہمیں یہ بتاتی ہے کہ تمام موجودات بشمول الوہیت – کچھ وجوہ سے – ایک ایسے عالمی سفر کا حصہ ہیں جس کی دنیا اور آخرت میں کوئی انتہا نہیں، انسان ہمیشہ سے ایک مسافر ہے جسے ایک حالت پر قرار نہیں کیونکہ وجود کی بنیاد ہی حرکت پر ہے اور اگر یہ وجود سکون کرے گا تو اپنی اصل یعنی کہ عدم کر طرف لوٹ جائے گا۔ اگر دیکھا جائے تو یہاں اصلاً کوئی سکون نہیں ہر چیز حرکت میں ہے اور حرکت ہی اس چیز کو اس کی حالت پر باقی رکھے  ہوئے ہے چنانچہ ہم جب تک سفر میں رہیں گے یہ عارضی وجود ہمارے ساتھ رہے گا اور جیسے ہی ہمارا سفر ختم ہو گا ہمارا گھر اور ٹھکانۂ اصلی یعنی کہ عدم ہمیں اپنے گھیرے میں لے لے گا۔ اگر ہمیں اتنی بات سمجھ آ جائے کہ ہمارا وجود اس حرکت سے قائم ہے اور سکون میں اس کی ہلاکت ہے تو ہمیں یقین ہو گا کہ ہم سفر میں ہیں۔ 

رسالہ اسفار کے عربی متن سے ہمارا پہلا تعارف حیدر آباد دکن سے سن 1938ءمیں  شائع شدہ کتاب رسائل ابن عربی کے توسط سے ہوا۔ یہ اس کتاب کی پہلی اشاعت تھی جس کی عربی عبارت کتب خانہ آصفیہ (نمبر 376 میں موجود مخطوطات جو کہ سن 997 ہجری میں نقل کیے گئے تھے) کے ایک مخطوط کو بنیاد بنا کر اخذ کی گئی تھی چنانچہ جدید علمی تحقیق کے تقاضوں کے برخلاف یہ اشاعت اپنے اندر بہت سی غلطیاں سموئے ہوئے تھی۔ 

اس کے بعد اس کتاب کے تحقیق شدہ عربی متن پر کام مشہور فرانسیسی سکالر ڈنیس گرل نے شروع کیا۔ آپ نے اپنی تحقیق کے لیے اس کتاب کے 6 قدیمی مخطوطات سے مدد لی ۔ آپ لکھتے ہیں: “یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ کتب خانہ یوسف آغا میں موجود قلمی نسخے (نمبر 4859) تک ہماری رسائی نہیں ہو سکی۔ عثمان یحییٰ کے بقول یہی اس رسالے کا اصل قلمی نسخہ ہے اور اس پر ایک سماع بھی موجود ہیں لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ سامع کون ہے۔” چنانچہ سن 1994ء میں ڈینس گرل نے اس کتاب کا پہلا تحقیق شدہ عربی متن بمع فرانسیسی ترجمے کے پیرس سے شائع کیا۔ یوں 1994ء سے لے کر اب تک یہ اشاعت ہی اس کی حتمی اشاعت تصور ہوتی رہی اور اسی  پر بھروسہ کیا جاتا رہا۔ 

اس اشاعت کے 15 سال بعد سن 2009ء میں انگلینڈ میں شیخ اکبر کے کتب پر کام کرنے والے ادارے عنقاء پبلشنگز میں جناب اسٹیفن ہرٹنسٹائن نے جب یہ تہیہ کیا کہ انہیں کتاب اسفار کو تحقیق شدہ عربی عبارت اور انگریزی ترجمے کے ساتھ شائع کرنا ہے تو ان کے پیش نظر کتب خانہ یوسف آغا (نمبر4859) کا وہی قلمی نسخہ تھا جسے شیخ اکبر نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں اپنے ہاتھ سے لکھا تھا۔ اس قدیمی اصل نسخے کے مہیا ہو جانے کے بعد اب سب سے بڑا کام ڈینس گرل کی تحقیق شدہ تمام عبارت کا اس سے موازنہ کرنا اور نص کو اس نسخے کے مطابق ڈھالنا تھا۔ یہ کوئی آسان کام نہ تھا بلکہ ایک ایک لفظ کو درست تشکیل دینے کا ایک صبر آزما عمل تھا۔ یہ انہی دنوں کی بات تھی جب ہم اپنی کتاب 101- احادیث قدسی کی اشاعت اور اس کے بعد کتاب الاسفار پر کام کرنے کا سوچ رہے تھے۔ جب مجھے اسٹیفن ہرٹنسٹائن کے اس عزم کا علم ہوا تو میں نے ان سے رابطہ کیا اور ابن عربی فاؤنڈیشن سے رسالہ اسفار کے عربی اور اردو متن شائع کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے فوراً سے ہمیں بھی اس پراجکٹ میں شریک کر لیا اور طے یہ پایا کہ اس آخری موازنے کے صبر آزما عمل کو ہم یہاں ابن عربی فاؤنڈیشن میں ہی مکمل کریں گے۔ بس پھر کیا تھا فوراً سے آپ نے عربی متن اور شیخ اکبر محی الدین ابن عربی کے ہاتھ سے لکھانسخۂ یوسف آغا بجھوا دیا اور تحقیق کا یہ عمل شروع ہوا۔ 

آج یہ کتاب محبان علوم شیخ اکبر کے سامنے نہایت ہی تحقیق اور تدقیق کے ساتھ پہلی بار عربی متن اور اردو ترجمے کے ساتھ پیش کی جارہی ہے۔ آج ہمیں نہایت خوشی ہو رہی ہے کہ اس پاک ذات نے ہمیں اپنے کہے پر عمل کرنے کی توفیق دی اور محض اس کی توفیق اور عطا سے ہی ہم اس منزل کو پانے میں کامیاب ہوئے۔ اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں ہماری نیتیں ٹھیک رکھنے کی توفیق دے اور ہمارے دلوں کو ٹیڑھا ہونے سے بچائے: ﴿رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ ﴾(آل عمران: 8) یااللہ تو جانتا ہے کہ ہمارے اس عمل میں بنیادی مقصد تیری رضا کا حصول اور لوگوں تک حق بات کا پہنچا دینا ہے اس لیے ہمارے اس حقیر سے عمل کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت بخش دے اور ہمیں آیندہ بھی ان اعمال صالحہ کی توفیق دے جو ہمارے لیے تیری طرف سے اس عمل کی قبولیت کی ایک نشانی ہوں۔ 

       ابرار احمد شاہی


 

comments

membership-fee

Membership is a kind of support which Ibn al-Arabi Foundation seeks from all those who not only believe in the Sufi knowledge of Shaykh al-Akbar but are willing enough to contribute for its revival. So join us today and show your love and affection for the spreading of this Divine Knowledge.

Membership Details 

Our Network

Who's Online

We have one guest and no members online